پیاس کی جنگ: پاکستان اور دنیا میں صاف پانی کا بحران اور اس کا حل.!

“پانی زندگی ہے” محض ایک مقولہ نہیں بلکہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ لیکن اکیسویں صدی میں ترقی کے دعوؤں کے باوجود، دنیا کی ایک بڑی آبادی اس بنیادی نعمت سے محروم ہے۔ جہاں ایک طرف جدید شہر فلٹر شدہ پانی کو نالیوں میں بہا دیتے ہیں، وہیں پسماندہ علاقوں کی عورتیں اور بچے میلوں پیدل چل کر گدلے اور مہلک امراض کا باعث بننے والے پانی کے مٹکے سروں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ صاف پانی کی فراہمی آج انسانیت کو درپیش سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے، اور پاکستان اس چیلنج کے عین مرکز میں کھڑا ہے۔

عالمی منظرنامہ: ایک خاموش ہنگامی صورتحال

عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسیف کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً 2.2 بلین لوگ محفوظ طریقے سے منظم پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی ہر چار میں سے ایک شخص ایسا پانی پینے پر مجبور ہے جو انسانی فضلے، صنعتی کیمیکلز یا جراثیم سے آلودہ ہو سکتا ہے۔ اس آلودہ پانی کے استعمال کے نتیجے میں ہر سال لاکھوں بچے ہیضہ (کالرا)، ٹائیفائیڈ، پیچش اور اسہال جیسی بیماریوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی خاموش وبا ہے جو جنگوں اور حادثات سے زیادہ جانیں لیتی ہے۔

پاکستان کی صورتحال: قطرہ قطرہ قحط کی طرف

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو پانی کی قلت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) نے بارہا خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملک 2040 تک پانی کی شدید قلت کا شکار ہو کر خشک سالی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

مسئلہ صرف پانی کی مقدار کا نہیں بلکہ معیار (کوالٹی) کا بھی ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں صورتحال تشویشناک ہے:

  1. آرسینک کا زہر: پنجاب اور سندھ کے بڑے علاقوں میں زیرِ زمین پانی میں آرسینک کی مقدار عالمی معیار سے کئی گنا زیادہ ہے، جو کینسر اور جِلدی امراض کا باعث بن رہی ہے۔
  2. بنیادی ڈھانچے کی کمی: تھرپارکر، جنوبی پنجاب کے چولستان، بلوچستان کے دور دراز علاقے اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی دیہاتوں میں صاف پانی کے پائپوں کا جال بچھانا حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔
  3. پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں: پاکستان میں 40 فیصد سے زائد اموات اور بیماریوں کی وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے، جس سے بچوں میں غذائی قلت اور جسمانی و ذہنی نشوونما رک جاتی ہے۔

ہم پسماندہ علاقوں کے مکینوں کو صاف پانی کیسے فراہم کر سکتے ہیں؟

یہ مسئلہ بڑا ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ چند پائیدار حکمت عملیوں پر عمل کرکے ہم اس بحران پر قابو پا سکتے ہیں:

  1. واٹر فلٹریشن پلانٹس کا قیام (کمیونٹی سطح پر):
    حکومتی بجٹ کے انتظار کے بجائے، فلاحی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے دیہاتوں کی سطح پر ریورس اوسموسس (R.O.) پلانٹس لگائیں۔ یہ پلانٹس کھاری اور آلودہ زمین کے پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنا دیتے ہیں۔
  2. سولر واٹر پمپس اور ہینڈ پمپس کی تنصیب:
    ان علاقوں میں جہاں بجلی نہیں ہے (جیسے تھر)، شمسی توانائی سے چلنے والے پمپس ایک انقلابی حل ہیں۔ گہرے بور کے ذریعے صاف پانی سطح پر لانا اور اسے ٹینکیوں میں ذخیرہ کرنا انتہائی مؤثر طریقہ ہے۔
  3. بارش کے پانی کو محفوظ کرنا (رین واٹر ہارویسٹنگ):
    پنجاب کے پوٹھوہار اور بلوچستان کے خشک پہاڑی علاقوں میں گھروں کی چھتوں اور قدرتی ڈھلوانوں سے بارش کے پانی کو زیرِ زمین ٹینکوں میں جمع کرنے کی ٹیکنالوجی اپنانے سے سال بھر صاف پانی کی فراہمی ممکن ہے۔
  4. صفائی اور شعور کی مہم:
    صرف پانی صاف فراہم کر دینا کافی نہیں۔ مقامی آبادی، خصوصاً خواتین کو یہ تربیت دینا ضروری ہے کہ پانی کو ڈھک کر رکھیں، برتن صاف ستھرے رکھیں اور استعمال سے پہلے پانی اُبالنے یا فلٹر کرنے کی عادت اپنائیں۔
  5. چھوٹے پیمانے کے سیوریج ٹریٹمنٹ یونٹ:
    دیہاتوں میں کھلے گندے پانی کی نکاسی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کا پانی آلودہ ہو جاتا ہے۔ کم لاگت سے بنائے گئے سوک پٹ (Soak Pit) اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ کے بنیادی ڈھانچے سے پانی کی میٹھاس برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

فرسٹ ڈراپ ویلفیئر: قطرہ قطرہ خدمت

انہی مقاصد کے حصول کے لیے ہماری فلاحی تنظیم فرسٹ ڈراپ ویلفیئر (First Drop Welfare) دن رات کوشاں ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ صاف پانی کا پہلا قطرہ ہی غربت اور بیماری کے چکر کو توڑ سکتا ہے۔

فرسٹ ڈراپ ویلفیئر اس وقت پاکستان کے انتہائی پسماندہ اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں (بالخصوص تھرپارکر، ضلع مظفر گڑھ اور بلوچستان کے مضافاتی دیہات) میں فعال ہے۔ ہم نے وہاں:

· سولر واٹر پمپس لگائے ہیں جن سے ہزاروں خاندانوں کو ان کی دہلیز پر پانی مل رہا ہے۔
· واٹر فلٹریشن پلانٹس قائم کیے ہیں جو آلودہ پانی کو زہر کے بجائے دوا بنا رہے ہیں۔
· بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے تالاب تعمیر کروائے ہیں جو خشک موسم میں مسیحا ثابت ہوتے ہیں۔

آپ کا کردار:
ہم حکومتی سطح پر پالیسیوں کے انتظار کے عادی ہو چکے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص ایک ہینڈ پمپ یا گھر کے لیے واٹر فلٹر کا انتظام کر دے، تو پاکستان کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ فرسٹ ڈراپ ویلفیئر جیسی تنظیموں کے ساتھ مل کر آپ بھی اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔ آئیے، مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ کل جب ہماری آنے والی نسلیں آنکھ کھولیں تو انہیں پانی کی بوند بوند کو ترسنے کے بجائے پانی کی قدر کرنا سکھائی جائے گی۔
ماہانہ پانچ پاؤنڈ کا عطیہ دے کر اس کار خیر میں حصہ لیں۔

“پانی کا ایک قطرہ، زندگی کا ایک وعدہ۔”

Join Us

We Need Your Help

The shortcode is missing a valid Donation Form ID attribute.

Top 3 Donations

Arif Hossain

Arif Hossain

January 17, 2024

Amount Donated
$2,000.00
Jamal Ahmed

Jamal Ahmed

December 11, 2023

Amount Donated
$1,500.00
Amjad Ansari

Amjad Ansari

August 24, 2022

Amount Donated
$800.00

Recent Donations

Shahed Khan

Shahed Khan

March 31, 2024

Amount Donated
$450.00
Arif Hossain

Arif Hossain

January 17, 2024

Amount Donated
$2,000.00
Jamal Ahmed

Jamal Ahmed

December 11, 2023

Amount Donated
$1,500.00
Amjad Ansari

Amjad Ansari

August 24, 2022

Amount Donated
$800.00
Shahed Khan

Shahed Khan

August 4, 2022

Amount Donated
$400.00